گوانتاناموبے جیل میں 20 سال گزارنے والے پاکستانی شہری ماجد خان رہا

 ماجد خان 20 سال سے امریکہ میں قید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ گوانتاناموبے جیل میں تھے تو انہیں اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔

امریکی حکومت نے ایک پاکستانی شہری کو مبینہ طور پر القاعدہ کے کورئیر ہونے کے ثبوت ملنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

کیوبا کی گوانتاناموبے جیل میں اپنی قید کے آخری 15 سال گزارنے والے 42 سالہ ماجد خان کو وسطی امریکی ریاست بیلیز میں رہا کر دیا گیا۔

ماجد خان کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن چونکہ اس نے امریکی حکام کے ساتھ تعاون کیا تھا، اس لیے اس کی قید کی سزا میں کمی کر دی گئی۔

وسطی امریکہ میں قیدی کی رہائی پہلی بار ہے کہ اوباما انتظامیہ نے کسی دوسرے ملک میں قیدی کو رہا کیا ہے۔

ماجد خان اپنی بیوی اور نوجوان بیٹی کے ساتھ مستقل طور پر بیلیز میں رہنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو ان کی گرفتاری کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

اس بارے میں ابھی بھی کچھ غیر یقینی ہے کہ آیا ماجد خان کی رہائی اس شرط کی وجہ سے ہوئی جو امریکہ نے رکھی تھی۔

ماجد خان نے اپنے وکلاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اپنی نئی آزادی کو اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

ماجد خان نے کہا کہ انہیں ماضی میں اپنے کیے پر پچھتاوا ہے اور وہ چیزوں کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بیس برسوں میں دنیا بہت بدلی ہے، اور میں بھی۔

بیلیز کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ ماجد خان نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا، لیکن انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اب وہ شدت پسندی کے لیے زیادہ پرعزم ہیں۔ خیرآباد نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حکام کے ساتھ تعاون کیا اور اپنی سزا پوری کی۔

بیلیز جنوبی میکسیکو میں ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ وہاں بہت سے لوگ انگریزی بولتے ہیں۔

ماجد خان ایک ایسی شخصیت ہیں جو سعودی عرب میں پیدا ہوئے، اور وہ پاکستان اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں مختلف مقامات پر رہ چکے ہیں۔ اب وہ بیس سال کے ہیں اور امریکہ میں رہتے ہیں۔

اس نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی اور اپنے والد کے پٹرول پمپ پر کام کیا۔ 2002 میں، وہ پاکستان واپس آیا اور القاعدہ سے متعارف ہوا۔

استغاثہ کا خیال ہے کہ ماجد خان نے پرویز مشرف کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس نے اس قتل کو انجام دینے کے لیے ایک مذہبی تنظیم کو رقم فراہم کی تھی۔

ماجد خان پر بنکاک کی ایک تنظیم کو 50,000 ڈالر دینے کا بھی الزام تھا اور یہی رقم مبینہ طور پر اگست 2003 میں جکارتہ کے میریٹ ہوٹل پر حملے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔

امریکہ کے حکام کا کہنا ہے کہ محمد جب پاکستان گیا تو اس کی ملاقات خالد شیخ محمد سے ہوئی۔

انہیں پہلی بار مارچ 2003 میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کراچی میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔

سی آئی اے نے اسے پہلی بار بیرون ملک خفیہ حراستی مرکز میں رکھنے کے بعد اپنی تحویل میں لے لیا۔ انہیں 2006 میں گوانتاناموبے منتقل کیا گیا تھا۔

ماجد خان نے اپنی گواہی میں کیا بتایا؟

ماجد خان نے 2007 میں عدالت کو بتایا کہ اسے نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور اس نے دو بار خودکشی کی کوشش کی۔

ماجد خان نے گواہی دی کہ جب وہ القاعدہ کے ذریعے بھرتی ہوا تو وہ ایک نوجوان تھا۔ تاہم، اب وہ تنظیم اور دہشت گردی دونوں سے انکار کرتا ہے۔

ماجد نے شروع سے ہی امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں کو دہشت گردی میں اپنے ملوث ہونے کے بارے میں بتایا تھا، لیکن حکومت کی طرف سے قید میں رہتے ہوئے اس کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا۔

ماجد نے عدالت میں ایک طویل بیان پڑھا جس میں بتایا گیا کہ گوانتاناموبے میں حراست کے دوران ان کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا گیا۔ اسے اکثر بیدار رکھا جاتا تھا اور اس کے کپڑے اتار دیے جاتے تھے، اور اسے کھانا کھانے پر مجبور کیا جاتا تھا جس سے وہ بیمار ہوتا تھا۔

Previous Post Next Post

Contact Form